باغ باغ

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - بہت خوش، مسرور، شاداں و فرحاں۔ "دن بھر کی شدید محنت کے بعد شام کو اجرت میں ایک روپیہ پلے پڑا، وہ روپیہ پا کے باغ باغ ہو گیا۔"      ( ١٩٤٣ء، جنت نگاہ، ٢٦ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'باغ' کی تکرار سے اردو میں 'باغ باغ' بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٦٣٥ء میں "قصۂ بے نظیر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بہت خوش، مسرور، شاداں و فرحاں۔ "دن بھر کی شدید محنت کے بعد شام کو اجرت میں ایک روپیہ پلے پڑا، وہ روپیہ پا کے باغ باغ ہو گیا۔"      ( ١٩٤٣ء، جنت نگاہ، ٢٦ )